Urdu poetry
تمنا سربلندی کی ہمیں بھی تنگ کرتی ہے مگر ہم دوسروں کو روند کر اونچا نہیں ہوتے ہری ہے شاخ تمنا ابھی جلی تو نہیں دبی ہے آگ جگر کی مگر بھی تو نہیں جفا کی تیغ سے گردن وفا شعاروں کی کٹی ہے بر سر میداں مگر جھکی تو نہیں